شیخ زید ہسپتال میں نرسز کو ہراساں کرنے کا معاملہ، تحقیقاتی کمیٹی نے خط کو پیشہ ورانہ گروپ بندی کا شاخسانہ قرار دیدیا

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب رپورٹر)
شیخ خلیفہ بن زید ہسپتال میں خواتین نرسز کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر قائم محکمہ صحت بلوچستان کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ جاری کردی
ترجمان محکمہ صحت بلوچستان کی جانب سے خبر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ محکمہ صحت بلوچستان کو ایک گمنام خط موصول ہوا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ شیخ زید ہسپتال کوئٹہ میں خواتین کی ہراسگی ہورہی ہے۔ معاملے کی حساسیت اور ہزاروں خواتین ملازمین کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے محکمہ صحت بلوچستان نے ایک غیر دستخط شدہ گمنام خط پر فوری طور پر ایک تحقیقاتی کمیٹی مورخہ 4 جنوری 2023 کو تشکیل دی تاکہ معاملے کی مکمل جانچ کی جاسکے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے ابتدائی انکوائری 7 روز میں مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جس میں خواتین کے ہراسگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ خط میں ذکر کئے گئے تمام کرداروں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کیا ۔ تاہم انکوائری رپورٹ میں حکومت بلوچستان کے قانون “کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کی خلاف بلوچستان پروٹیکیش ایکٹ، 2016 “کے تحت کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی تھی جو ازحد ضروری ہے اور تمام ہسپتالوں میں کمیٹیاں جلد ہی تشکیل دے دی جائیں گی۔
میڈیا چونکہ ریاست کا اہم ستون ہے لہذا وہ حکومت کی طرف سے سروسز کی بہتری کیلئے مثبت پہلوؤ ں کو اجاگر کریں تاکہ اس مقدس پیشہ میں دن رات خدمات سر انجام دینے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ ہزاروں خواتین طب کے پیشہ سے وابستہ ہیں اور لاکھوں خواتین بلا واسطہ بطور مریض اس پیشہ سے منسلک ہیں ۔
بادی النظر یہ گمنام خط پیشہ ورانہ گروپ بندی کا شاخسانہ ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کے اہم ہسپتال میں سروسز کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ انتظامیہ کی طرف سے خواتین کو ڈیوٹی پر پابند کرنے پر چند ایک خواتین کی طرف سے ہراسگی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کمیٹی کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ہسپتال میں سروسز کی مزید بہتری کی جاسکے۔
چونکہ خط میں شامل کسی بھی کردار کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے لہٰذا اس دوران جتنے بھی تبادلے ہوئے ہیں وہ مکمل طور پر انتظامی بنیادوں پر کئے گئے ہیں اور ہسپتال میں انتظامی بہتری کیلئے ضرورت کی بنیاد پر مزید رد و بدل کی جائے گی کیونکہ انتظامی نا اہلی کی وجہ سے ہسپتال مکمل طور پر فعال نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ تمام ہسپتالوں میں خواتین کے کام والی جگہ پر ہراسانی کی روک تھام کیلئے حکومت بلوچستان کے قانون کے تحت کمیٹیاں جلد ہی تشکیل دی جائیں گی۔
محکمہ صحت خواتین کو کام والی جگہ پر مکمل تحفظ دینے پالسی پر گامزن ہیں ۔ اس وقت ہزروں بچیاں ڈاکٹڑ، نرسنگ، پیرا میڈیکل اور دیگر طبی شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ان کا کام والی جگہ پر تحفظ اولین ترجیح ہے ۔ اگر کسی بھی خاتون کو ایسی کوئی مسئلہ درپیش ہے تو محکمہ صحت کے ذمہ دار حکام کے ساتھ فوری رابطہ کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں ۔ اس کے علاوہ خواتین اپنی شکایت ایک خود مختار ادارے بلوچستان محتسب برائے کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف تحفظ کو درخواست دیکر داد رسی حاصل کر سکتے ہیں جن کا رابطہ نمبر 9204220-081 ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

شیخ زید ہسپتال میں نرسز کو ہراساں کرنے کا معاملہ، تحقیقاتی کمیٹی نے خط کو پیشہ ورانہ گروپ بندی کا شاخسانہ قرار دیدیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں