بلوچستان کو تنہا نہ چھوڑیں، صوبائی وزیر خوراک و خزانہ نے اپیل کردی

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو(ویب رپورٹر) صوبائی وزیر خوراک و خزانہ انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے پاس گندم کا ذخیرہ ختم ہوچکا ہے جسکی وجہ سے صوبے میں گندم کا بحران شدید ہوگیا ہے، صوبے کو ہنگامی صورتحال سے نکلنے کے لئے فوری طور پر پانچ سے چھ لاکھ بوریاں گندم کی ضرورت ہے ، پاسکو نے 2لاکھ گندم کی بوریاں فراہم کر نے کا اعلان کیا ہے جن میں سے پانچ سے دس ہزار پہنچ چکی ہیں ، بلوچستان میں گندم کے بحران کی ذمہ دار وفاقی، سندھ اور پنجاب کی حکومتیں ہیں ۔
صوبائی وزیر خوراک و خزانہ نے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کی۔ بدرالدین کاکڑ سمیت فلورمل ایسوسی ایشن کے دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔انجینئر زمرک خا ن اچکزئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے 6 لاکھ گندم بوریاں فراہم کرنے کی درخواست کی تھی،وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی مگر وعدہ پورا نہیں کیا، وفاق سے رابطہ کیا تو پاسکو نے دو لاکھ گندم کی بوریاں فراہم کیں جو اکتوبر میں ملیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہر سال 1کروڑ 52لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں درکار ہوتی ہیں ،صوبے میں ہرماہ ساڑھے 12لاکھ گندم کی بوریوں کی ضرورت ہے کوئٹہ کو ماہانہ اڑھائی لاکھ بوریاں گندم چاہیے ہوتی ہیں صوبائی حکومت نے سیلاب کے بعد پانچ لاکھ بوریوں میں چار ماہ تک صوبے کو کنٹرول کیا ،اس وقت صوبے کو کم سے کم 5سے 6لاکھ گندم کی بوریوں کی ضرورت ہے تاکہ ہم مارچ تک معاملات چلاسکیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وفاق ، سندھ ،پنجاب کی وجہ سے گندم کا بحران پیدا ہوا ہے ، صوبے کو گندم دینے سے انکار کردیا گیا ملک میں 85فیصد گندم سندھ اور پنجاب سے آتی ہے مگر جب صوبے میں نجی شعبے کے لوگوں نے گندم منگوانا چاہی تو سندھ اور پنجاب کی جانب سے سرحد پر گندم آنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے بعد گندم کا بحران شدت اختیار کرگیا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، سندھ اور پنجاب کے وزراءاعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور صوبے کو فوری طو ر پر پانچ لاکھ گندم کی بوریاں مہیا کی جائیں تاکہ مارچ میں نئی فصل آنے تک صوبے میں گندم کا ذخیرہ موجود ہو ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے پاس خزانے میں کچھ نہیں ہے ہم سبسڈی نہیں دے سکتے لہذا پاسکوہمیں لوکل قیمت پر گندم فراہم کرے ۔انہوں نے کہا کہ پاسکو سے 2لاکھ مزید بوریاں مل رہی ہیں جن میں سے 5سے 10ہزار گندم کی بوریاں موصول ہوئی ہیں جن سے ابھی سپلائی شروع کی ہے بلوچستان میں گندم کا بحران شدت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بڑے ذخیرہ اندوز نہیں ہیں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر چھاپے مارے ہیں کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ذخیرہ اندوزی کرے ۔انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو 40لاکھ بوریاں گندم دی گئی لیکن بلوچستان میں اس کا حصہ بھی نہیں دیا گیا اگر وہ حصہ بھی مل جائے تو ہم 40فیصد تک بحران پر قابو پاسکتے ہیں،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاسکو کی گندم کی خرابی کا ذمہ دار پاسکو ہے محکمہ خوراک کی گندم نہ تو خراب ہوئی اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی بد عنوانی کی گئی محکمہ خوراک نے 2لاکھ 96ہزار بوریاں گندم خریدیں وہ گنداموں میں پہنچائی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ مقامی لوگوں کی گندم بھی سیلاب کے دوران خراب ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاسکو نے 4لاکھ گندم کی بوریاں دینے کا اعلان کیا ہے جس میں 2لاکھ مقامی اور 2لاکھ امپورٹڈ بوریاں ہونگی ، امپورٹڈ گندم مہنگی ہے ہمیں پرانی مقامی گندم فراہم کی جائے ساتھ ہی ہمیں چار لاکھ مزید بوریاں گندم بھی دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان امیر صوبہ ہوتے ہوئے غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے ،صوبے نے ملک کو گیس، گوادر پورٹ، ریکوڈک ، معدنیات دی ہیں اس وقت وفاق کے ذمہ این ایف سی کی مد میں 30ارب روپے سے زائد بقایاجات ہیں میں پلاننگ کمیشن کے وزیر، فنانس سیکرٹری، پی پی ایل سے ملا ہوں لیکن ہمیں وفاق سے ہمارے پیسے نہیں مل رہے ، برج فنانسنگ میں ہمارے چھ ارب روپے بقایا ہیں حکام سے اپیل کی ہے وہ ہمیں دے دیں وزیراعلیٰ کوشش کر رہے ہیں انہوں نے خط بھی لکھا ہے مگر اب تک صوبے کو این ایف سی سے بقایا حصہ نہیں دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی کے گزشتہ مالی سال کے 11ارب ، وزرات پیٹرولیم کے 30ارب روپے واجب الادا نے دینے ہیں اگر ہماری مدد نہیں کر سکتے تو ہمیں ہمارا حصہ دیا جائے ہم اپنے حق کے لئے اسلام آباد، پنجاب میں ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ جاکر احتجاج کریں گے ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے صدر بدرالدین کاکڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمیں بیرون ملک سے گندم امپورٹ نہیں کرنے دیتی جب وفاق اور صوبے بلوچستان کو گندم نہیں دیں گے تو 1کروڑ23لاکھ آبادی کہاں جائے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو پاسکو کے ذریعے بلوچستان کو سبسڈی پر گندم دی جاسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں