کوئٹہ میں اساتذہ نے سڑک بند کردی

کوئٹہ :ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب رپورٹر)
یونیورسٹی آف بلوچستان صوبے کا مادر علمی بدستور مالی بحران کا شکار ہے ایک مرتبہ پھر تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوگئی ، نومبر کی تنخواہیں تاحال نہ ملنے پر اساتذہ اور ملازمین نے سریاب روڈبلاک کرکے شدید احتجاج کیا
بلوچستان یونیورسٹی کے اکیڈمک اسٹاف اور ملازمین نے منگل کو جامعہ بلوچستان سے ریلی نکالی اور باہر آکر مین گیٹ کے سامنے سریاب روڈ پر دھرنا دیدیا۔ ملازمین نے یونیورسٹی کی بسیں بھی سڑک پر کھڑی کرکے ٹریفک روک دی۔ مظاہرے کے شرکانے یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی مظاہرے میں خواتین اساتذہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ احتجاج کے باعث سریاب روڈ کی دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ نومبرکی تنخواہوں اب تک ادا نہیں کی گئی جبکہ اب دسمبر بھی پورا ہونے کو ہے، تنخواہوں میں تاخیر کے باعث اساتذہ اور ملازمین شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ اساتذہ اور ملازمین یونینز پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ اگر فوری طور پر تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں تو جلد وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب لانگ مارچ کرکے ریڈ زون میں دھرنا دیا جائے گا۔ ڈیجیٹل نیوز اردو سے بات چیت کرتے ہوئے اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری فرید اچکزئی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو فنڈ دینے سے انکار کردیا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نا اہل ہے جس کی وجہ سے مالی بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ خود لاکھوں روپے کی تنخواہ اورمراعات کے مزے لے رہے ہیں جبکہ غریب ملازمین اور اساتذہ کی فکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایچ ای سی والے کہتے ہیں جامعہ کوخود انحصاری کی جانب جانا چاہئے مگر اس میں اساتذہ اور ملازمین کا کیا قصور ہے ۔ بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں