بلوچستان کا معاشی بحران، سابق وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے وزیراعلی کے بیان کی نفی کردی

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب ڈیسک)
بلوچستان کا این ایف سی میں حصے کو آئینی طور پر تحفظ حاصل ہے ملک میں معاشی بحران کی صورت میں بلوچستان کے حصے میں کٹوتی نہیں کی جاسکتی۔
سابق وزیر میر ظہور بلیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 20-2019 میں کرونا کے دوران جب ایف بی آر مطلوبہ ہدف پورا نہیں کر سکی تو تراسی ارب وفاق نے بلوچستان کو % 9.09 کے مطابق اپنے حصے سے دیے ۔
میر ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی معاشی بحران کرپشن، نااہلی ، بد انتظامی اور بری طرز حکمرانی کا نتیجہ ہے، ترقیاتی اسکیمات ریٹس میں اضافہ کی وجہ سے بند پڑے ہوئے ہیں اور ٹھیکیدار کام کرنے سے قاصر ہیں تو جاری اسکیمات کے فنڈز کہاں گئے ؟ دس ارب سیلاب زدگان کی بحالی کے مد میں کرپشن کی نذر ہوگئے
انہوں نے وزیراعلی کے بیان سے متعلق کہا ہے کہ اگر موصوف کی بات کو درست سمجھا جائے کہ بلوچستان معاشی بحران کی وجہ سے ملازمین کی تنخوائیں دینے کے قابل نہیں ہے تو ہزاروں کے حساب سے وزراء نوکریاں فروخت کر رہے ہیں اور سول سیکرٹریٹ کو منڈی بنا دیا ہے تو پھر نئے لگنے والوں کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ان کے پیسے بھی ڈوب جائیں گے ۔
واضح رہے کہ وزیرعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ وفاق کی جانب سے این ایف سی کے تحت حصہ نہ ملنے کے باعث صوبہ مالی بحران کا شکار ہے
وزیراعلی کی مکمل خبر پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کریں

وفاق نے این ایف سی کے تحت ملنے والے حصے کا تاحال 10فیصد بھی نہیں دیا، وزیراعلی بلوچستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بلوچستان کا معاشی بحران، سابق وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے وزیراعلی کے بیان کی نفی کردی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں