جمعیت نے ٹرانس جینڈرایکٹ 2018 چیلنج کرنے اور جلد نیا بل لانے کا اعلان کردیا

اسلام آباد: ڈیجیٹل نیوزاردو(ویب ڈیسک)
جمعیت علماء علماء کے مرکزی ترجمان نے کہا ہےکہ جمعیت علماء اسلام خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کےنام پر ٹرانسجینڈرایکٹ 2018.کی ہر محاذ پر بھرپور مخالفت کرتے ہوئے مستردکرتی ھے اور اسکے خاتمے کے لئے شروع کی جانے والی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ھوچکی ھے
چونکہ یہ بل خواجہ سراؤں کےحقوق کےنام پر بناکر پاس کیا گیا تھامگر اس کی چند شقوں کاسہارالےکر ہم جنس پرستی کےدروازے کھولےجارہےہیں اسلئےجمعیت علماء اسلام نےاس پرپورا کام شروع کیاہے۔دس دن قبل اس ایکٹ کی مکمل تحقیق اور جائزہ لینے اور اس کے خاتمے کے لئے نیا اورجامع مسودہ تیار کرنے کے لیے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمان نے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری
مجلس فقہی پاکستان کے سربراہ مولانا مفتی روزی خان۔ممتاز قانون دان سینٹر کامران مرتضی۔مرکزی نائب أمير اورسابق وزیر تعلیم خیبر پختونخواہ مولانا فضل علی حقانی۔صوبہ خیبر پختونخواہ کے نائب امیر سابق ایم پی اے مفتی فضل غفور پرمشتمل مرکزی سطح پر 4 رکنی اعلی سطحی کمیٹی تشکیل دی
کمیٹی اراکین نے ٹرانس جینڈرایکٹ کے ہرحوالے سے مکمل تحقیق اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں ایک جامع مسودہ تیار کیا جو قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ گزشتہ دنوں قائد جمعیت نے سندھ کے چار روزہ دورے کے موقع پر چار رکنی کمیٹی کی جانب‌ سے تیار کردہ مکمل تحقیقاتی رپورٹ اورمسودہ خصوصی طور پر کراچی میں مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی سے ملاقات کے دوران انکے سامنے پیش کیا اورانکےساتھ سیر حاصل گفتگو کی اور مسودے کوحتمی شکل دینے کے بعد آئندہ چند دنوں میں جمعیت علماء اسلام کی جانب سےکامران مرتضی ایڈوکیٹ کی سربراہی میں ممتاز وکلاء کی پینل وفاقی شرعی عدالت/ اور سپریم کورٹ میں کیس دائر کریگی
اورانشاء اللہ جمعیت علماء اسلام بہت جلد پارلیمنٹ میں دوسرا بل لائیگی اور پاکستان کے آئین،قرآن وسنت سے متصادم عجلت میں پاس کئے جانے والے ایکٹ کا خاتمہ کرکے قوم کو جلد خوشخبری سنائی گی جمعیت علماء اسلام نے ہر وقت ہرفورم پرقرآن وسنت سےمتصادم ہر قسم کی قانون سازی کی بھرپورمخالفت کی ھے اور ائیندہ بھی کریگی
قوم کو گمراہ کرنے والے عناصر بے نقاب ھونگے اور الحمدللہ جمعیت علماء اسلام اور انکے اکابرین کاشاندار ماضی ،حال ،روز روشن کی طرح قوم پر عیاں ھے
پریس ریلیز میں مزید کہاھےکہ یہ ایکٹ 8 مئی 2018 کو گزشتہ حکومت کے دور حکومت میں بڑی چالاکی اور مکاری سے ایوان میں لایا تھاجس دن ممبران کی اکثریت پارلیمنٹ سے غیر حاضر تھی جمعیت علماء اسلام کی واحد رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور اس دن اجلاس میں موجود تھی جنھوں نے بل کی بھرپور مخالفت کی تھی لیکن انکی مخالفت کے باجودعجلت میں نل پاس کروایا تھا
گزشتہ دنوں سینٹر مولاناعطاء الرحمن اور نعیمہ کشور نے باقاعدہ طور پر سینٹ سیکرٹریٹ میں تحریری قراردادیں بھی جمع کی ہیں۔ اور بلوچستان اسمبلی میں جمعیت علماء اسلام کے رکن صوبائی اسمبلی اصغرترین نے ٹرانس جینڈرایکٹ کو کالعدم قرار دینےکی قرار داد بلوچستان اسمبلی میں پیش کی جو اسمبلی نے منظور کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں