0

نیشنل پارٹی نے سرکاری ملازمت کی عمر میں کمی کے حکومتی فیصلے کو مسترد کردیا

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو( ویب ڈیسک)
نیشنل پارٹی ملازمت کی عمر میں کمی کے حکومتی فیصلے کو یکسر مسترد کردیتا ہے بلوچستان میں ملازمت کے سرکاری ذرائع محدود ہیں نوجوان ملازمت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاکر مشکل سے ملازمت کے حصول میں کامیابی حاصل کرتے ہیں جبکہ موجودہ حکومت نوجوانوں سے ان کا یہ حق بھی چیننا چاہتا ہے۔ نیشنل پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے زرائع محدود ہیں جس کی وجہ سے نوجوان سرکاری ملازمت کی طرف سہارا دیکھتے ہیں۔لیکن سرکاری ملازمتیں اقربا پروری و خرید وفروخت کی نذر ہورہی ہے۔لیکن پھر بھی نوجوان ہمت نہیں ہارتے اور ہر پوسٹ کےلیے درخواست دیتے ہیں۔حکومت کی سرکاری ملازمت کے بالائی عمر کی حد میں کمی نے نوجوانوں کو مایوسی کا شکار بنا دیا اور نوجوان خود کی مستقبل کو تاریک دیکر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ نوجوان بلوچستان کا مستقبل ہے۔نوجوان ہی جدید دنیا کے ساتھ مقابلہ کرسکتے ہیں۔اس لیے ان کو مایوسی کا شکار نہ بنایا جائے۔میرٹ سے ہی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استعفادہ کیا جائے میرٹ کو مقدم بنایا جائے اور تمام اداروں میں میرٹ کو اولیت دی جائے تو سماج میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوگا اور نوجوانوں کا تعلیم پر توجہ بھی زیادہ ہوگا۔ بیان میں کھاگیا کہ حالیہ حکومت میرٹ کو پس پشت ڈال کر اقرباپروری پر اتر آیا ہے بعض اضلاع کے خالی آسامیوں کو عارضی بنیادوں پر پر کرنے کی کوشش کررہا ہے اور بلوچستان اسمبلی نے بھی تمام خالی آسامیوں کو میرٹ پر بھرتی کرنے کے بجائے عارضی بنیادوں پر پر کرنے کا باقاعدہ اشتہار بھی جاری کردیا جو غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اور اپنے من پسند افراد کو بھرتی کرنے کا منصوبہ ہے۔ نیشنل پارٹی مطالبہ کرتا ہے کہ سرکاری ملازمت کے عمر کی حد کو 43 سال برقرار رکھا جائے اور نوجوانوں کے خلاف سازشیں بند کی جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں