0

اگلے 10دن کے موسم کی پیشگوئی، بلوچستان میں پہلی مرتبہ موسم کی نگرانی کے بڑے منصوبہ کا آغاز کردیا گیا

اسلام آباد:ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب رپورٹر)
موسمیاتی تبدیلی کے پیش نظر طوفانی موسمی حالات کی وقت سے پہلے جان کاری کیلئے بلوچستان میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز ، جدید ریڈارز اور دیگر آلات کی تنصیب کے سروے کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ صوبے میں تحصیل سطح کے موسم کی آئندہ دس روز تک کی پیشگوئی کے علاوہ گرمیوں میں مون سون اور موسم سرما میں مغربی ہواؤں کی مانیٹرنگ کی جاسکے گی ۔ کاشتکاروں کوفائدہ جبکہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ حکام کوسیلاب اور دیگر طوفانی موسمی حالات سے بچنے کیلئے بروقت حفاظتی اقدامات اور تیاری کرنے میں مدد ملے گی منصوبے پر 9ہزار 600ملین روپے خرچ ہوں گے
ڈیجیٹل نیوز اردو کو موصول دستاویزات کے مطابق محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی)نے موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں یہ منصوبہ وفاقی حکومت کو پیش کیا تھا جس کی فوری طور پر منظوری دیدی گئی ہے ۔ جس پر محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں300خود کار ویدر اسٹیشنز اور جدید ریڈار کی تنصیب کے لئے موذوں جگہوں کے سروے کا آغاز کردیا ہے اس سلسلے میں بلوچستان میں سب سے زیادہ 105خود کار ویدر اسٹیشنز اور دو جدید ریڈارز اور کئی دیگر اہم اور جدید آلات نصب کئے جائیں گے۔ ڈائریکٹر پلاننگ محکمہ موسمیات ڈاکٹرمحمد طاہر خان نے ڈیجیٹل نیوز اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا ہے کہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے تحت موسمیاتی تبدیلی اور شدید موسمی اثرات کے تناظر میں یہ میگا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس میں بلوچستان اور خیبر پختوانخوا کو ترجیح دی گئی ہے انہوں نے بتایا کہ یہ بلوچستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے ان خود کار ویدر اسٹیشنز کے قیام سے صوبے میں تحصیل سطح تک آئندہ دس روز کے موسم کی پیشگوئی ممکن ہوگی جس سے کاشتکاروں کو فائدے کے علاوہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ حکام مقامی انتظامیہ اور لوگوں کو کسی بھی قسم کے شدیدنوعیت کے موسمیاتی سسٹم کے بننے کی پیشگی اطلاع دی جاسکے گی جس سے وہ نقصانات میں کمی ،بچاؤ اور تیاری کے لئے اقدامات کرسکیں گے۔ ڈاکٹرمحمد طاہر خان کے مطابق کوئٹہ میں سی بینڈ اور گوادر میں ایس بینڈ ریڈارز کی تنصیب بھی منصوبے میں شامل ہیں جس سے مون سون اور مغربی ہواؤں کی مانیٹرنگ ہوسکے گی اس کے علاوہ دیگر اور کئی اہم آلات کی تنصیب بھی منصوبے کے تحت کی جائے گی انہوں نے بتایا کہ ورلڈ بینک کی مالی معاونت سے یہ 9ہزار 600ملین روپے کا منصوبہ ہے ،جو آئندہ دو سال میں مکمل ہوگا بلوچستان کے علاوہ 75آٹومیٹک ویدر اسٹیشنز خیبر پختونخواہ میں جبکہ باقی ملک کے دیگر صوبوں میں نصب کئے جائیں گے۔ تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان اور بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختوانخوا میں موسمی حالات سے بروقت اور صحیح طور پر آگاہ رہا جاسکے ۔ ڈائریکٹر پلاننگ محکمہ موسمیات ڈاکٹر طاہرمحمد خان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ژوب خضدار اور دالبندین میں ریڈارز کی تنصیب کا منصوبہ اور سمندر کی لہروں کی نگرانی کے لئے چار ہائی فریکوینسی ریڈارز کی گوادر اور پسنی میں تنصیب کے منصوبے بھی زیر غور ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں