0

بلوچستان میں ایک بار پھر بارشیں شروع، کوہلو میں مکانات منہدم بچی جاں بحق دو افراد زخمی ہوگئے

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو(ویب رپورٹر)
ایک دن کے وقفے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا کوہلو کے علاقے ماوند میں بارش سے متعدد مکانات منہدم ہوگئے چھت گرنے سے ایک بچی جاں بحق دو افراد زخمی ہوگئے۔ پہلے سے متاثر ہونے والے خاندان بارش میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ صوبے میں بارشوں کے دوران جاں بحق افراد کی تعداد 230 ہوگئی
مقامی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوہلو کے علاقے ماوند میں منگل کی شام موسلادھار دھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں اب تک مزید درجنوں کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں سینکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ مقامی ذرائع بتارہے ہیں کہ کچھ خاندانوں نے سرکاری عمارتوں میں پناہ لے لی تاہم بیشتر متاثرین کو بارش میں سرچھپانے کی جگہ نہیں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں بارش کے دوران مکان کی چھت گرنے سے ایک بچی جاں بحق ہوگئی جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کےلیے تحصیلدار سمیت لیویز اور دیگر امدادی ٹیمیں علاقے میں بھیج دی گئی ہیں۔
کوہلو کے علاوہ کوئٹہ، مستونگ، ہرنائی اور بولان سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ جو محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق آئندہ تین روز تک جاری رہے گا
ڈیرہ بگٹی میں برساتی نالے میں بہہ جانے والے 2 افراد کی لاشیں تیسرے روز بھی نہ مل سکیں نیوی کی غوطہ خور ٹیم تلاش مصروف ہے گاڑی گزشتہ دنوں سوئی نالے میں بہہ گئی تھی جس میں پانچ افراد سوار تھے ایک خاتون کی لاش نکالی گئی ہے جب کہ دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔ تاہم ڈرائیور سمیت ایک خاتون کی تلاش ابھی تک جاری ہے
پی ڈی ایم اے نے اپنی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کی تباہ کاریاں سے مزید 5 اموات کی تصدیق ہوئی ہے پورے صوبے میں بارش اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 230 تک پہنچ گئی پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 230 ہے جن میں 110 مرد 55 خواتین اور 65 بچے شامل ہیں مختلف حادثات میں 98 افراد زخمی ہوچکے جن میں 55 مرد 11 خواتین اور 32 بچے شامل ہیں سیلابی ریلوں اور بارشوں سے مجموعی طور پر بلوچستان میں 26 ہزار 897 مکانات منہدم و جزوی نقصان کا شکار ہوئے تو وہیں 2 لاکھ سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلوچستان کو پنجاب سے ملانے والی شاہراہ فورٹ منرو کے مقام سے بحال کردی گئی ہے تاحال نصیر آباد ڈویژن مکران ڈویژن سمیت دیگر علاقوں میں تاحال کئی دیہات زیر آب ہیں اب تک 1 لاکھ 98 ہزار 461 ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں اور انگور سیب کے باغات، ٹیوب ویلز بورنگ اور سولر پلیٹس کو نقصان پہنچا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں