0

کوئٹہ میں موسلادھار بارش، مشرقی اور مغربی پہاڑ سے برساتی ریلے شہر میں داخل

کوئٹہ :ڈیجیٹل نیوز اردو ( ویب رپورٹر)
کوئٹہ میں موسلادھار بارش سے جھل تل ایک ہوگیا ۔ مشرقی اور مغربی پہاڑوں سے برساتی ریلے امڈ آئے ۔ بروری اور پشتون آباد اور مغربی بائی پاس کے ندی نالوں سے پانی شہر میں داخل ،گلی محلے اور اہم شاہراہیں تالاب بن گئیں ۔ گاڑیاں موٹرسائیکلیں بند متعدد گھروں میں پانی داخل ہونے سے قیمتی سامان کو نقصان اور رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اتوار کی دوپہر موسلادھار بارش ہوئی۔ مغرب میں کوہ چلتن کے علاقے کرخسہ سے برساتی ریلے ہزارہ ٹاؤن اور بروری اور سلطان آباد سے ملحقہ علاقوں میں داخل ہوگیاشدید نوعیت کے برساتی ریلے کے باعث کئی فٹ اونچا پانی گھروں میں داخل ہوگیا ۔ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے اور سامان بچانے کی کوشش کرتے رہے تاہم متعدد گھروں کا سامان پانی میں بہہ گیا بعض گھروں کے اندر پڑا فرنیچر اور دیگر خراب ہوگیا ہے۔ اسی طرح مشرق میں کوہ مردار سے متعدل سطح کے برساتی ریلے پشتون آباد اور مشرقی بائی پاس کے علاقوں میں داخل ہوگئے، جو پھر مرکزی اور وسطی شہر تک پہنچ گئے برساتی ریلے اور بارش کے نتیجے میں شہر کے نالے امڈ آئے پانی سڑکوں پر بہنے لگا جس کے باعث گوالمنڈی چوک ، کاسی روڈ ، جناح روڈ کواری روڈ ، جان محمد روڈ کے علاقے پانی سے بھر گئے لوگ گھروں سے پانی نکالنے کے تگ و دو میں لگ گئے امداد چوک سمیت زرغون روڈ کا وسیع علاقہ دریا میں تبدیل ہوگیا ۔ جہاں سے پانی وحدت کالونی اور گلشن ٹاؤن تک پہنچ کر لوگوں کے گھروں میں داخل ہوگیا۔وحدت کالونی کے رہائشی خلیل خاکسار نے ڈیجیٹل نیوز اردو کو بتایا کہ بارش اور شہر کی نالیوں کا پانی ان کے محلے میں داخل ہونا معمول ہے اس بار پانی کا بہاو شدید ترتھا سارا گندا پانی وحدت کالونی اور گلشن ٹاؤن کے گھروں میں داخل ہوگیا جس سے علاقہ مکین کربناک صورتحال سے دوچار ہوگئے ہیں علاقہ مکینوں نے میٹروپولیٹن حکام اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ امداد چوک پر جمع ہونے والے پانی کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں اور اس پانی کا رخ کسی طرح سٹی نالے کی طرف موڑا جائے تاکہ لوگ اس اذیت سے بچ سکیں۔
زرغون روڈ کے علاوہ نواں کلی، ڈبل روڈ، سرکی روڈ سریاب روڈ کے مختلف علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہونے سے شہری بالخصوص موٹرسائیکل سواروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند ہونے سے شہری پریشانی میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ اہم سڑکوں پر شدید ٹریفک جام کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ جناح ٹاون اور سیٹلائٹ ٹاون جیسے پوش علاقوں میں بھی جگہ جگہ پانی کھڑا ہوگیا ہے جس سے آمد و رفت شدید متاثر ہے دوسری جانب اندرون شہر گلی محلوں میں بھی صورتحال ابتر ہوگئی ہے ۔ چالو باوڑی پل کے اطراف پانی اور کیچڑ جمع ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے گلی محلوں میں مسلسل بارشوں کے نتیجے میں کچھی سڑکیں اور نالیاں کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئیں ہیں ۔ علاقہ مکینوں کا محلے میں گزرنا اور گھروں سے نکلنا محال ہوگیا ہے ۔ مختلف گلی محلوں میں پانی جمع ہونے سے پانی گھروں میں داخل ہورہا ہے کچے مکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ متعدد دیواریں گر چکی ہیں۔ فاروقیہ ٹاؤن کے رہائشی محمد ذیشان نے ڈیجیٹل نیوز اردو کو بتایا ہے کہ بارش کے بعد پانی اور کیچڑ یہیں پر خشک ہوگا مگر نکاسی کیلئے کچھ کیا جائیگا نہ اس کے بعد کیچڑ صاف کرنے کا بندوبست ہوگا۔ میٹروپولیٹن والے ان علاقوں میں صفائی کرتے ہی نہیں بارش میں پانی و گندگی اور عام دنوں میں خشک ہونے والے کیچڑ کی مٹی اندرون شہر رہنے والوں کا مقدر بن گئی ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے کہا ہے کہ گلی محلوں کی صفائی کرنے کا بندوبست کیا جائے لاکھوں لوگ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی لاعلمی کرپشن اور کوتائی کی سبب بارش کے دنوں میں اذیت ناک صورت حال سے دوچار اور بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

کوئٹہ میں موسلادھار بارش، مشرقی اور مغربی پہاڑ سے برساتی ریلے شہر میں داخل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں