0

مون سون بارشوں کی نئی لہر، موسلادھار بارشوں سے سبی اور بیلہ میں تباہی

کوئٹہ+سبی+حب :ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب رپورٹرز)
بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مون سون کی نئی لہر کے سلسلے میں بارشیں جاری ہے۔ سبی اور لسبیلہ موسلادھار بارشوں اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے متعدد کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں سبی شہر تالاب کا منظر پیش کررہا ہے بارش کاپانی سول ہسپتال سبی اور لوگوں کے گھروں داخل ہونے سے شہری اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں بیلہ کے 15دیہات زیر آب آگئے ہیں جھل مگسی میں بارشوں کے نتیجے میں کوٹڑہ و دیگر نواحی علاقوں کا گنداواہ شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ بولان میں پل گرنے سے مچھ کا قومی شاہراہ سے رابطہ تاحال منقطع ہے۔ پاکستان ایرانی ریلوے سروس بھی آٹھ روز سے معطل ہے۔
تفصیلات کے مطابق صوبے کے شمال مشرقی اضلاع سمیت مکران کے مختلف اضلاع میں میں مون سون کے نئے سلسلے کی بارشیں 13جولائی سے جاری ہیں۔ گزشتہ شب سے جاری بارشوں میں سب سے زیادہ بارش سبی اور گردونواح میں ہوئی ہے ۔وقفے وقفے سے جاری تیز بارشوں کے نتیجے میں سبی شہرمیں سول ہسپتال سمیت مختلف رہائشی علاقوں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔ سول ہسپتال میں پانی جمع ہونے سے مریضوں اور طبی عملے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگوں کے فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان خراب ہوگئے ہیں اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے پانی نکالنے پر مجبور ہیں ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نکاسی آب کے لئے کوئی بندوبست نہیں کیا گیا ہے۔موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں متعدد کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں سبی اور ملحقہ علاقوں میں بارشوں سے ندی نالوں میں بھی سیلابی صورتحال بن گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق تلی ندی میں چانڈیا ویئر کے مقام پر بیس ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے ۔ دریائے ناڑی میں ہیڈ ورکس کے مقام پر سیلابی ریلے کا بہاؤ 80ہزار کیوسک ہے۔ گزشتہ شب دریائے ناڑی سیگلو شہر کے قریب پانی اوور فلو کرجانے سے ملحقہ آبادی زیر آب آگئی ۔ علاقے میں متاثرہ دو درجن کے قریب جھگیوں میں مقیم افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرکے ان کو ٹینٹ اور دیگر ضرور ی سامان مہیا کردیا گیا ہے۔
ضلع لسبیلہ کی تحصیل بیلہ میں سیلابی ریلے نے تباہی مچادی ہے۔ بیلہ شہر ، ریسٹ ہاؤس محلہ اور بزنجو محلہ میں سیلابی ریلہ داخل ہوگیا ہے ۔ مقامی ذرائع کے مطابق لوگ اپنی مدد آپ کے تحت گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں اس کے علاوہ بیلہ کے 15دیہات بھی زیر آب آگئے ہیں گھروں میں پانی داخل ہونے سے لوگ محصور ہوکر رہ گئے ہیں کچے مکانات کے گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ سیلابی ریلے سے نرگ ندی کا بندات کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے ملحقہ آبادی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے گزشتہ شب بیلہ آر سی ڈی شاہراہ ولپٹ کے مقام پر پل کا ایک حصہ بہہ گیا تھا ، ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج پل کو جزوی طور پر مرمت کرکے ٹریفک بحال کردی گئی ہے
ضلع جھل مگسی کی تحصیل گنداواہ میں بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے سگھڑی رابطہ پل گنداواہ سے نچے درجے کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے تاہم پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ گزشتہ شب کی بارشوں کے نتیجے میں تحصیل گنداواہ کے نواحی علاقے کوٹڑہ و دیگر علاقوں کا گنداواہ شہر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
کچھی کے علاقے بھاگ کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے سیلابی ریلے کے باعث بھاگ تا جلال خان روڈ کو گوٹھ میر گل محمد کے قریب شگاف پڑ گیا ہے جس سے آمد و رفت میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسی طرح بھاگ شہر میں بارش کا پانی مختلف علاقوں میں داخل ہوگیا ہے ۔ شہر سے پانی ملحقہ قبرستان میں داخل ہوگیا ہے جس سے متعددقبروں کو نقصان پہنچا گیا ہے لوگ اپنی مدد آپ قبروں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں شہریوں نے اپیل کی ہے کہ انتظامیہ نکاسی آب کے لئے اقدامات کرے
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران جمعہ کی صبح 8بجے تک بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش سبی میں 81ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے مسلم باغ میں 5، ژوب اور لورالائی میں 4ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ آج بھی صوبے کے بیشتر اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔ سبی ، بولان، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، جھل مگسی، خضدار، قلات ،لسبیلہ، ژوب ، بارکھان ، مکران ، تربت ، آواران ، پنجگور، اورماڑہ ، پسنی ، جیلوانی اور گوادر میں موسلا دھار بارش متوقع ہے۔
دوسری جانب بارشوں کے نتیجے میں مختلف اضلاع میں املاک کو نقصان پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز بولان میں مچھ شہر کو قومی شاہراہ سے ملانے والا پل سیلابی ریلے کے نذر ہوگیا۔ مچھ شہر کا کوئٹہ سبی قومی شاہراہ سے زمین رابطہ تاحال منقطع ہے۔ اسی طرح ضلع چاغی میں پاک ایران ریلوے ٹریک سیلانبی ریلے میں ڈوب جانے کے باعث آٹھ روز قبل شدید متاثر ہوا جو تاحال بحال نہیں کی جاسکی۔ آٹھ روز سے پاک ایران ریلوے سروس معطل ہونے سے دو طرفہ کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں پاکستان کی چالیس سے زائد لوڈ بوگیاں سرحدی علاقے میں پھنس چکی ہے۔ حکام کے مطابق ٹریفک کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے تاہم ٹریک کی بحالی میں مزید وقت لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں