0

حکومت کے روایتی فیصلے: عوام کی قوت برداشت جواب دے گئی

اداریہ
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ہفتوں کے دوران پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں60روپے اضافہ ہوا ہے ۔ جس کے بعد ملک میں پٹرولیم قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کیاگیا ہے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے ملکی معیشت کے لئے ناگزیر ہیں بصورت دیگر ملک دیوالیہ ہوجائے گا جس کا ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ حکومت جو دوسرا عذر پیش کررہی ہے وہ آئی ایم ایف کی جانب سے سبسڈیز ختم کرنے کی شرط ہے ۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام میں رہنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کو قرض مل سکے ۔
اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے کم رہ گئے ہیں ۔ ملکی معیشت ایک مرتبہ پھر نازک صورتحال سے دوچار ہے۔ رواں سال اپریل اور مئی میں درآمدات 42.35فیصد اضافے کے ساتھ 43.75ارب ڈالر کے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے جو پہلے 21.82ارب ڈالر تھے۔برآمدات اور درآمدات کا یہ فرق ملک میں غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر میں تیزی سے کمی کا باعث بن رہا ہے۔
معاشی بدحالی ، پٹرولیم مصنوعات ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے براہ راست اثرات معاشرے میں اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ پانی کا بحران عروج پر ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی بڑھ گئی ہے۔ لوگ بلبلا اٹھے ہیں۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگ اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں حکومت پر یہ فیصلے واپس لینے کے لئے دباؤ بڑھ رہا ہے اور عام آدمی سوال کررہا ہے کہ معاشی بحران کا صرف غریب ہی کیوں بوجھ برداشت کریں۔ تاجر برادری نے احتجاج کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ عوامی نبض بتارہی ہے کہ لوگ اب تنگ آگئے ہیں غریب اب معاشی بدحالی کا بوجھ اٹھانیپر آمادہ ہے اور نہ اس کی مالی حالت ایسی ہے کہ وہ یہ بوجھ اٹھاسکے
معیشت کے حوالے سے حکومت کے حالیہ فیصلی سیاسی اعتبار سے سخت ضرور ہیں مگر عملی طور پر آسان ہیں موجودہ حکومت ماضی کی روش پر چلتے ہوئے معیشت بچانے کیلئے ہمیشہ کی طرح آسان طریقوں پر کار فرما ہے۔ ملک مسلسل معاشی خساروں میں گرا ہوا ہے صرف قیمتیں بڑھانا ہرگز دیرپا حل نہیں ہے۔ ان اقدامات کی صورت میں قرض ملے گی مگر معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوگی۔ آمدن و اخراجات کا خرچ کم نہیں ہوگا۔ مہنگائی کم نہ ہوگی غریبوں پربوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔مہنگائی میں مزید اضافہ اور اس سلسلے کو روکنا نا ممکن ہوجائے گا،غربت اور کرپشن بڑھے گی ۔پٹرول گیس اور بجلی کی چوری میں مزید اضافہ ہوگا۔ چھوٹے صوبے بالخصوص بلوچستان میں مسائل بہت زیادہ ہیں غربت ، خوراک کی کمی جیسی مصیبتوں میں گرے ہوئے لوگ مزید مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔ ترقی کرتے خاندان غریب ہونگے اور غربت کی لکھیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والے مزید بدحالی کا شکار ہوجائیں گے ۔ بھوک افلاس بڑھے گی جو تباہی ہے اور کچھ نہیں۔
حکومت کومعیشت ٹھیک کرنی ہے ،تو محنت کرنے پڑے گی ۔ وہ فیصلے اور اقدامات کرنے ہوں گے جس میں صلاحیتیں صرف ہوتی ہیں۔ اے سی والے کمروں میں بیٹھ کر صرف فیصلوں کاوقت گزر چکا ہے ۔ اداروں کو فعال بناکر کام لینے کی ضرورت ہے ملک کو خساروں اور قرضوں سے نکالنا ہے تووفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اخراجات میں کمی لانی ہوگی۔ خسارے میں چلنے والے محکموں اور اداروں بالخصوص پاور سیکٹر میں سخت کارروائیاں اور فیصلے کرنے ہوں گے۔حکومت کو چاہئے کہ ملکی معیشت کا بوجھ غریبوں کے کندھوں سے سرمایہ دار اور امرا پر منتقل کرے۔ ان طبقوں کو مختلف مد میں ملنے والی سبسڈیز اور مراعات کو ختم کیا جائے۔ وزراء اور سرکاری افسران اور ملازمین کو مفت پٹرول و ڈیزل کی فراہمی فوری طور پر بند کی جائے۔ملک میں مہنگائی کی اصل حالت کے برعکس ہوشربا مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے لائحہ عمل اپنا یاجائے
حکومت اور حکومتی مشینری اس مشکل وقت میں محنت نہیں کرے گی۔ مصلحتوں کا شکار رہے گی۔ سرمایہ دار اور طاقتور پربوجھ ڈالنے سے ڈرے گیمالی معاملات کو ٹھیک نہیں کرے گی تو ملک کی 98فیصد آبادی کے پاس خاموش رہنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ غربت افلاس بڑھنے سے ملک میں افراتفری اور انتشار کی کیفیت بن جائے گی۔ جس کا یہ ملک کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا۔ غریبوں کی قوت برداشت اب جواب دے گئی ہے ۔حکمران طبقہ اور اشرافیہ کو چاہئے آگے بڑھیں اس سے پہلے کے ان کے پاس کچھ کرنے کے لئے کوئی مہلت ہی باقی نہ رہ جائے

ایڈیٹر
ڈیجیٹل نیوز اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

حکومت کے روایتی فیصلے: عوام کی قوت برداشت جواب دے گئی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں