0

بلوچستان میں بجلی کا کرنٹ دے کر مچھلیوں کا بے رحمانہ شکار مشغلہ بن گیا

کوئٹہ :ڈیجیٹل نیوزاردو (خصوصی رپورٹ/ایم احمد)
بلوچستان میں مچھلیوں کا شکار کرنے کے لئے بجلی کا کرنٹ دینے کا رحجان خطرناک حد تک بڑھتا جارہا ہے جس سے آبی حیات کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔خصوصا صوبے کے اہم سیاحتی علاقے درہ بولان میں بے رحمانہ طریقے سے مچھلیوں کی نسل کشی نوجوانوں کا مشغلہ بن گیا ہے۔
بی بی نانی ، پیر غائب ، گوکرت اور ڈھاڈر سے ملحقہ علاقوں میں مختلف قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں،نوجوان گروپ کی صورت میں آتے ہیں قدرتی چشموں اور ندیوں میں جہاں مچھلیاں رہتی ہیں انہی جگہوں پر جنریٹر سے 220کلووولٹ بجلی کا کرنٹ مخصوص طریقے سے چھوڑا جاتا ہے بہتے پانی میں جس حد تک کرنٹ پھیلاتا مچھلیاں تڑپتی ہوئی پانی کے اوپر آجاتی ہیں اور شکاری ان کو جپٹ لیتے ہیں۔ اس طریقے سے مچھلیوں کے بچے اور انڈے بھی زد میں آجاتے ہیں ۔تاہم کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ماہرین کے مطابق مچھلیوں کے شکار کا یہ غیر قانونی طریقے ہے اس سے پانی میں موجود ہر قسم کے آبی حیات کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں ، کرنٹ کے علاوہ بارودی مواد کے دھماکوں سے بھی مچھلیوں کو مارا جاتا ہے یہ سلسلہ اسی طرح بڑھتا رہا تو بولان میں مچھلیاں اور دیگر آبی حیات کا خاتمہ ہوجائیگاماہرین نے حکومت سے پر زور دیا ہے کہ صوبے میں شکار کے ان غیر قانونی اور بے رحمانہ طریقوں کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
درہ بولان میں مقامی نوجوان اور پکنک منانے والے کتنی آزادی سے مچھلیوں کا بے رحمانہ شکار کرتے ہیں ڈیجیٹل نیوز اردو کی خصوصی ویڈیو رپورٹ دیکھئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بلوچستان میں بجلی کا کرنٹ دے کر مچھلیوں کا بے رحمانہ شکار مشغلہ بن گیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں