0

بلوچستان یونیورسٹی میں ہڑتال اور احتجاجی تحریک ختم

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو(ویب رپورٹر)
یونیورسٹی انتظامیہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جامعہ بلوچستان میں اساتذہ، ملازمین اور افسران نے قلم چھوڑ ہڑتال اور 35 روز سے جاری احتجاجی تحریک ختم کردی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کے ٹیچرز، آفیسرز اور ایمپلائز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مکمل تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بشمول اضافہ شدہ 44 فیصد ہاوس ریکوزیشن، اردلی الاونس، یوٹیلٹی الاونس ،25 فیصد ڈسپیریٹی الائونس، ہاوس بلڈنگ ایڈوانس، ریٹائرڈ اساتذہ، آفیسرز اور ملازمین کی پینشنز کی بروقت ادائیگی، بائیومیٹرک حاضری، آفیسرز اور ملازمین کے پروموشن، ٹائم سکیل سمیت دیگر درپیش مسائل کے حل کے لئے 19 ویں رمضان کو بھی 35 روز سے جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں آرٹس بلاک سے ریلی نکالی گئی جو مختلف شعبہ جات سے ھوتے وائس چانسلر سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں تبدیل ھوئی، دریں اثناء جامعہ بلوچستان کے پرو وائس چانسلر کی سربراہی میں بنائی گئی مذاکراتی کمیٹی جس میں ٹریڑار، رجسٹرار، ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب، ڈاکٹر نظام الدین بلوچ، ڈاکٹر عالم ترین، ڈاکٹر عثمان ٹوبہ وال اور ڈاکٹر میروائس نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی رہنماؤں سے مذاکرات کئے جو کامیاب ھوئے جس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات تسلیم کئے گئے جو اس مہینےکی تنخواہ میں شامل کئے جائیں گے، کامیاب مذاکرات کے بعد جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاجی تحریک اور جمعرات کو کی جانی والی قلم چھوڑ ہڑتال کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں