0

خواتین کے حقوق کیلئے سماجی تنظیموں اور میڈیا نمائندوں کا ملکر کام کرنا ضروری ہے، وویمن لیڈ الائنس بلوچستان 

کوئٹہ: ڈیجیٹل نیوز اردو (ویب رپورٹر)
بلوچستان کے صحافتی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے صوبے میں کم عمری کی شادی کے تدارک،  خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی میں پیش رفت اور کمیشن آن اسٹیٹس آف وویمن کی صوبائی چئیرپرسن کی تعیناتی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سماجی اور صحافتی تنظمیوں کی جدوجہد کے تسلسل کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے وومن لیڈ الائنس بلوچستان کے زیراہتمام نیشنل اور علاقائی میڈیا کے نمائندگان کی نشست مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں چائلڈ رائٹس موومنٹ کے نمائندے میر بہرام لہڑی اور کوآرڈینیٹر وومن لیڈ الائنس بلوچستان نمرہ ملک نے پروگرام کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی نشست کے  فیسلیٹیٹر میر بہرام لہڑی نے وویمن وائس لیڈر شپ پروجیکٹ کی سالانہ کارکردگی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ  کہ بلوچستان میں فروری2021 سے مارچ 2022 کے دوران خواتین کے حقوق کے حوالے سے یہ منصوبہ جاری رہا  یہ ایک تین سالہ ایڈوکسی پروگرام تھا  جو بلوچستان میں تین نیٹ ورکس چائیلڈ رائٹس موومنٹ بلوچستان ، ریپڈ رسپانس نیٹورک ، اور اینڈنگ وائلنس اگنسنٹ وومن  نے باہمی اشتراک سے قابل عمل بنایا  پہلے سال چائیلڈ رائٹس موومنٹ بلوچستان  نے کامیابی کے ساتھ اس منصوبے کو چلایا جس میں مختلف ایڈوکسی پروگرامز منعقد کرائے گئے  ان پروگرامز کا مقصد بلوچستان میں خواتین کے حقوق کے لیے ایک سازگار ماحول بنانا تھا  تاکہ خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوسکیں  اس سلسلے میں حکومت بلوچستان پہ زور دیا گیا کہ کم عمری کی شادی کی روک تھام ، گھریلو تشدد کے قانون پہ عمل درامد، وویمن ایمپاومنٹ پالیسی اور صوبائی کمیشن برائے خواتین کی  چیئیر پرسن کی تقرری عمل میں لائی جائے اور الحمداللہ ان مقاصد میں وویمن لیڈ الائنس بلوچستان کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی اور  کم عمری کی  شادی کا 2021  ویٹ کرکے بلوچستان کابینہ کو  بھیجا جاچکا ہے،  گھریلو تشدد کے رولز آف  بزنس بھی ویٹ کرکے بلوچستان کیبنٹ بھیجے گئے ہیں  اس کے علاوہ صوبائی کمیشن برائے خواتین کے چیئیرپرسن کی تقرری کر دی گئی ہے  پروگرام کو اگے بڑھاتے ہوئے آئیز آرگنائزیشن کے جنرل سیکرٹری  میر بہرام بلوچ  نے کہا کہ ابھی بھی  خواتین کے حقوق لیے بہت جدوجہد کرنا باقی ہے ہماری خواہش ہے کہ  کہ جس کام کو ہماری آرگنائزیشن نے جس نہج پر چھوڑا ہے اس کا تسلسل قائم رہے  پرپل وویمن کی  رفعت پرویز نے کہا کہ  بلوچستان  کے کلچر میں خواتین کے حقوق کے لیے  کام کرنا ایک مشکل عمل  ہے  ہمیں ان تمام مرد حضرات کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے جو حقوق نسواں کے لئے رضاکارانہ کام کررہے ہیں، بلوچستان کا سوشل سیکٹر بہت چھوٹا ہے، مگر متحد نہیں ہے ، ہمیں اپنے زاتی مفادات کو ایک طرف رکھ کر اجتماعی اہداف کے حصول کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہونگے تاکہ بلوچستان میں زیر التواء اہم نوعیت کے مسودہ قوانین اور مسائل کے پائیدار حل کے لئے کام کیا جاسکے آکسفام پارٹنر و ڈبلیو ڈبلیو بی کے چیف ایگزیکٹو کرامت اللہ خان  نے کہا کہ ہماری ارگنائیزیشن خواتین پر  تشدد کے حوالے سے کوئٹہ میں ایک ہیلپ لائن چلا رہی ہے جس میں اس سال 450 خواتین نے رابطہ کیا جو کہ مختلف تشدد کا شکار رہی ہیں نشست سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظور بلوچ، سئنیر صحافی و تجزیہ نگار، رشید بلوچ، ظفر بلوچ، شیخ عبدالرزاق ، چوہدری امتیاز احمد، قدیر رند، اکبر نوتیزئی ، دانیال بٹ، میر سلام جوگیزئی اور فضاء کنول  نے کہا کہ خواتین کے مسائل کے حل کیلئے اشتراکی اقدامات کا تسلسل ناگزیر ہے وویمن لیڈ الائنس بلوچستان نے اس ضمن میں نہایت متحرک کردار ادا کیا ہے اور اس فورم کے توسط سے میڈیا کے دوستوں کو وویمن رائٹس اور بلوچستان میں پرو وویمن لیجسلیشن سمیت انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے امور کو جانچنے کا موقع میسر آیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو جاری رکھا جائے انہوں نے یقین دلایا کہ اس کار خیر میں بلوچستان کے صحافی اور صحافتی تنظمیوں کا مکمل تعاون برقرار رہے گا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں