0

بلوچستان میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کا قانون جلد منظور ہونے کا امکان ہے۔ وویمن لیڈ الائنس بلوچستان

کوئٹہ( ڈیجیٹل نیوز اردو- ویب رپورٹر)
بلوچستان کی سماجی اور صحافتی تنظمیوں نے گھریلو تشدد ، کم عمری کی شادی کی روک تھام اور خواتین و نوجوانوں کی بہبود  سمیت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی میں تیزی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مختلف اسٹیک ہولڈر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد میں اتفاق رائے کے قیام کے لئے مشترکہ اقدامات کو موثر بنانے پر اتفاق کا اظہار کیا ہے ہفتہ کو بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں وویمن لیڈ الائنس بلوچستان کے اشتراک سے لوکل اور نیشنل میڈیا کے نمائندوں کا ایک اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد کیا گیا جس میں بلوچستان کے مختلف میڈیا نمائندوں نے شرکت کی  پروگرام کی ابتدا میں  نمراہ ملک کوارڈینٹر وویمن لیڈ الائنس بلوچستان نے نشست کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی جبکہ  چائلڈ رائٹس بلوچستان کے نمائندے  میر بہرام لہڑی نے اپنی تفصیلی بریف میں بتایا کہ گزشتہ سال بھر میں الائنس کی  کوشش رہی ہے کہ خواتین کے اہم مسائل پر  ایڈوکسی کی جائے جبکہ  گھریلو تشدد 2014 کے قانون سی رولز آف بزنس، چائلڈ میرج بل کی جلد از جلد منظوری کے حوالے سے علماء، میڈیا، ڈاکٹر، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل مشاورتی نشست کے انعقاد کے لئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اس نشست میں مندرجہ بالا قوانین کی من و عن منظوری کے لیے اتفاق رائے پیدا کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں  وویمن جینڈر پالیسی اور پروینشنل کمیشن فور وویمن کی تشکیل میں  سست روی باعث تشویش ہے پروگرام میں شامل بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری منظور بلوچ ، سئنیر صحافی و تجزیہ نگار  رشید بلوچ ، ظفر بلوچ، میر بہرام بلوچ ، غالب نیہاد ، دانیال بٹ، ایوا جی الائنس کے سربراہ وطن یار خلجی ،  غیر سرکاری اداروں کے  نمائندگان  رفعت پرویز ، زہرہ حسن نے بلوچستان میں زیر التواء اہم نوعیت کے مسودہ قوانین اور مسائل کے پائیدار حل کے لئے تجاویز پیش کیں مشاورتی  نشست کے مہمان خاص پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سئنیر نائب صدر سلیم شاہد نے کہا کہ بلوچستان کے حالات دیگر صوبوں سے قطعی مختلف ہیں جہاں خواتین و بچوں کے حقوق سمیت سماجی شعبے  کے سدھار کے لئے قانون سازی میں علاقائی روایات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ قانون سازی التواء کا  شکار ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ بلوچستان میں بعض  غیر سرکاری ادارے فعال کردار ادا کررہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ قانون سازی میں تیزی کے لئے شعوری آگاہی اور اتفاق رائے سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات بار آور ثابت ہونگے انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل میں خواتین اور نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرکے ہی پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے پی ایف یو جے کے سئنیر نائب صدر نے بلوچستان میں وویمن لیڈ الائنس کے کردار کو سراہتے ہوئے صحافتی تنظیم کی جانب سے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں