0

بلوچستان میں خواتین جنسی ہراسگی کیخلاف شکایت درج کرانے سے خوف محسوس کرتی ہیں، صوبائی خاتون محتسب

تربت (ڈیجیٹیل نیوز اردو ویب ڈیسک)
صوبائی محتسب خواتین بلوچستان کے تعاون سے یونیورسٹی آف تربت میں انسدادہراسیت بلوچستان ایکٹ 2016کے بارے میں آگاہی سمینار کا انعقدکیاگیا۔ جامعہ اعلی انتظامیہ، مختلف تعلیمی اور انتظامی شعبوں کے سربراہان کے علاوہ فیکلٹی ممبران اور طلباء وطالبات نے کثیرتعدادمیں سیمینار میں شرکت کی۔
سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایڈوکیٹ صابرہ اسلام کا کہناتھاکہ کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراسان کرنے کی ایک اہم وجہ خواتین میں انسداد ہراسیت کے قوانین کے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے،ہماری خواتین ہراسیگی کے خلاف شکایات درج کرانے سے خوف محسوس کرتی ہیں،صرف قوانین بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ، اصل کام ان قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناناہے۔ہم انسدادہراسیت اور خواتین کے حقوق کا تحفط کے قوانین پر مناسب عملدرآمد کویقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں۔انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیں  تاکہ وہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے اور ہراسیگی کے روک تھام میں اپنا بھرپورکرداراداکرسکیں۔ ایڈووکیٹ صابرہ اسلام نے ہراسگی سے متعلق خاتون محتسب بلوچستان کو شکایات درج کرانے کا طریقہ کاربتایا اور خواتین کی ملک کی ترقی میں بلاخوف اپناکردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسرداکٹر جان محمد نے سمینار سے  خطاب کرتے ہوئے سمینار کے انعقادپر صوبائی خاتون محتسب کا شکریہ اداکیا۔انہوں نے کہا کہ اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی بنانے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف تربت معاشرے سے ہراسگی کے اس برائی کو جرسے اکھاڑنے کے لیے صوبائی محتسب کے ساتھ کھڑی ہے صوبائی مھتسب کے ساتھ کھڑی ہے

یونیورسٹی آف تربت میں اینٹی ہراسمنٹ قانون سے متعلق آگاہی سیمنار کے شرکا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

بلوچستان میں خواتین جنسی ہراسگی کیخلاف شکایت درج کرانے سے خوف محسوس کرتی ہیں، صوبائی خاتون محتسب” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں